جتنی آزاد ہیں بے باک ہیں اِنسانوکی
اِتنی بے باک نہیں نیتیں حیوانوں کی
روشنی دیکھی ہے شہرونکی شبستانونکی
اِن سے پیاری ہے شبِ ماہ بیابانونکی
دل ہلا دیتی ہے تہذیب کے ماتھے کی شکن
خار بن جاتی ہیں کلیاں بھی گلستانونکی
اضطراب اور بڑھاتا ہے ہجومِ یاراں
اور سکوں دیتی ہیں تنہائیاں ویرانونکی
لذتِ درد سے خالی ہیں دلوں کے گوشے
کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانونکی
جن میں ہے ساغرو مینا وہی نازک سے ہاتھ
اِینٹ سے اِینٹ بجا دیتے ہیں میخانونکی
عقل کے نام پہ کوئی نہ سردار آیا
یہ وہ منزل ہے جو پامال ہے دیوانونکی
ذوق اَرزاں ہے تو کچھ تبسم اِرشاد
آپ بھی بیٹھے ہیں مجلس میں غزلخوانونکی</
اِتنی بے باک نہیں نیتیں حیوانوں کی
روشنی دیکھی ہے شہرونکی شبستانونکی
اِن سے پیاری ہے شبِ ماہ بیابانونکی
دل ہلا دیتی ہے تہذیب کے ماتھے کی شکن
خار بن جاتی ہیں کلیاں بھی گلستانونکی
اضطراب اور بڑھاتا ہے ہجومِ یاراں
اور سکوں دیتی ہیں تنہائیاں ویرانونکی
لذتِ درد سے خالی ہیں دلوں کے گوشے
کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانونکی
جن میں ہے ساغرو مینا وہی نازک سے ہاتھ
اِینٹ سے اِینٹ بجا دیتے ہیں میخانونکی
عقل کے نام پہ کوئی نہ سردار آیا
یہ وہ منزل ہے جو پامال ہے دیوانونکی
ذوق اَرزاں ہے تو کچھ تبسم اِرشاد
آپ بھی بیٹھے ہیں مجلس میں غزلخوانونکی</
No comments:
Post a Comment