آرزو جب تیری حسرت سے بدل جائے گی
مشکل آسانی کے ڈھانچے میں بھی ڈل جائے گی
عالمِ یاس میں گھبرانے سے کیا حاصل ہے
زندگی ایک مصیبت ہے تو ٹل جائے گی
جل گیا ہے کوی پروانہ تو افسوس نہ کر
شمع بھی سوزشِ پنہانی سے جل جائے گی
آجکل سنتا ہوں۔ ہوتا ہے رقیبوں پہ عتاب
اِس طرح کیا میری تقدیر بدل جائے گی
حُسن پتھر ہے تو کم عشق کی گرمی بھی نہیں
اُس کی ہٹ موم کی مانند پگھل جائے گی
دیکھنا اپنی وفا ہے تو یہ نفرت کی خلش
اُس کے سینے سے بتدریج نکل جائے گی
آج حیران ہیں احباب تبسم اِس پر
اُس کو اصرار ہے وہ سُن کے غزل جائے گی
مشکل آسانی کے ڈھانچے میں بھی ڈل جائے گی
عالمِ یاس میں گھبرانے سے کیا حاصل ہے
زندگی ایک مصیبت ہے تو ٹل جائے گی
جل گیا ہے کوی پروانہ تو افسوس نہ کر
شمع بھی سوزشِ پنہانی سے جل جائے گی
آجکل سنتا ہوں۔ ہوتا ہے رقیبوں پہ عتاب
اِس طرح کیا میری تقدیر بدل جائے گی
حُسن پتھر ہے تو کم عشق کی گرمی بھی نہیں
اُس کی ہٹ موم کی مانند پگھل جائے گی
دیکھنا اپنی وفا ہے تو یہ نفرت کی خلش
اُس کے سینے سے بتدریج نکل جائے گی
آج حیران ہیں احباب تبسم اِس پر
اُس کو اصرار ہے وہ سُن کے غزل جائے گی
No comments:
Post a Comment