Pages

Wednesday, 22 August 2012

اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو Ab key hum par kaisa saal para logo

اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو

No comments:

Post a Comment