سرد تھے ہونٹ
بہت زرد تھی یہ شاخِ بدن
سخت پتھرائی ہوئی تھیں آنکھیں
دشت کی طرح تھی ساری دنیا
آسماں ،درد کا لمبا صحرا
بہت زرد تھی یہ شاخِ بدن
سخت پتھرائی ہوئی تھیں آنکھیں
دشت کی طرح تھی ساری دنیا
آسماں ،درد کا لمبا صحرا
جانے کیا بات چلی باتوں سے
جانے کس طرح ترا ذکر چھڑا
ایسا لگتا ہے تنِ مردہ میں
روح پھونکی ہے کسی نے تازہ
جانے کس طرح ترا ذکر چھڑا
ایسا لگتا ہے تنِ مردہ میں
روح پھونکی ہے کسی نے تازہ
No comments:
Post a Comment