Pages

Friday, 8 June 2012

تیرے آنے کا دھوکا سا رہا ہے Terey Aaney ka dhoka sa raha hai


تیرے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے

سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصر
چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے

No comments:

Post a Comment