Pages

Wednesday, 16 May 2012

وقت کے ساتھ عناصر بھی رہے سازش میں Waqat key sath anaasir bhi rahay sazish mein


وقت کے ساتھ عناصر بھی رہے سازش میں ،
جل گئے پیر کبھی دھوپ کبھی بارش میں ،

وہ تو اک سادہ و کم شوق کا طالب نکلا ،
ہم نے ناحق ہی گنوایا اسے آرائش میں ،

زندگی کی کوئی محرومی نہیں یاد آئی ،
جب تلک ہوں میں تیرے قرب کی آسائش میں ،

ایک دنیا کا قصیدہ تھا اگرچہ میرے نام ،
لطف آتا تھا کسی شخص کی فہمائش میں ،

اس کی آنکھیں بھی میری طرح سے گروی کہیں اور ،
خواب کا قرض بڑھ جاتا ہے اک خواہش میں . . . !

No comments:

Post a Comment