Pages

Wednesday, 16 May 2012

پلکوں پہ رکی بوند بھی رونے کو بہت ہے Palkoon pey ruki boond bi roney ko bohat hai


پلکوں پہ رکی بوند بھی رونے کو بہت ہے
اک اشک بھی دامن کے بھگونے کو بہت ہے

یہ واقعہ ہے دل میں میرے تیری محبت
ہونے کو بہت کم ہے ، نا ہونے کو بہت ہے

پھر کیا اسی تاریخ کو دھراؤ گے قاتل
نیزے پہ میرا سر ہی پیرونے کو بہت ہے

کس طرح سے باطن پہ چڑھی میل اتاریں ؟
جو زخم بدن پر ہے وہ دھونے کو بہت ہے

اب سامنہ طغیانی دریا کا ہے محسن
اک لہر بھی کشتی کے ڈبونے کو بہت ہے

No comments:

Post a Comment