Pages

Wednesday, 9 August 2017

دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں Do jahanoon ki khabar rakhtey hain

دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں
بادہ خانوں کی خبر رکھتے ہیں

خارزاروں سے تعلق ہے ہمیں
گُلستانوں کی خبر رکھتے ہیں


ہم اُلٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب
ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں


اُن کی گلیوں کے مکینوں کی سُنو
لا مکانوں کی خبر رکھتے ہیں


چند آوارہ بگولے اے دوست
کاروانوں کی خبر رکھتے ہیں


زخم کھانے کا سلیقہ ہو جنہیں
وہ نشانوں کی خبر رکھتے ہیں


کُچھ زمینوں کے ستارے ساغرؔ

 آسمانوں کی خبر رکھتے ہیں

(ساغر صدیقی)

No comments:

Post a Comment