Pages

Monday, 9 September 2013

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟ Kia yey zulm thoda hai

حکیم شہر بتا

وقت کے شکنجوں نے

خواہشوں کے پھولوں کو

نوچ نوچ توڑا ہے

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟

درد کے جزیروں نے

آرزو کے جیون کو

مقبروں میں ڈالا ہے

ظلمتوں کے ڈیرے ہیں

لوگ سب لٹیرے ہیں

موت روٹھ بیٹھی ہے

ذات ریزہ ریزہ ہے

تارتار آنچل ہے

درد درد جیون ہے

شبنمی سی پلکیں ہیں

قرب ہے نہ دوری ہے

زندگی ادھوری ہے

مجھ کو

اب یقین آیا ہے کہ

موت بھی ضروری ہے

No comments:

Post a Comment