لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو
ترتیب دے رہا ہوں کتابِ حیات کو
میرا خلوص پاؤں کی زنجیر بن گیا
میرے بدن میں دفن کرو میری ذات کو
ہر آدمی کا نامۂ اعمال ہے سیاہ
کس کے حضور پیش کروں کاغذات کو
وہ شخص میرے حلقۂ احباب میں رہا
لیکن سمجھ سکا نہ مری نفسیات کو
گر تم مرے شریکِ سفر ہو تو ساتھ دو
آؤ گلے لگائیں غمِ کائنات کو
No comments:
Post a Comment