Pages

Friday, 26 April 2013

موت کی رسم نہ تھی , ان کی ادا سے پہلے Mout ki rasm na thi un ki ada sey pehley


موت کی رسم نہ تھی , ان کی ادا سے پہلے
 زندگی درد بنائی تھی , دوا سے پہلے

 کاٹ ہی دیں گے قیامت کا دن اک اور سہی
 دن گزارے ہیں محبّت میں قضا سے پہلے

 دو گھڑی کے لئے میزان عدالت ٹھہرے
 کچھ مجھے حشر میں کہنا ہے خدا سے پہلے

 تم جوانی کی کشاکش میں کہاں بھول اٹھے
 وہ جو معصوم شرارت تھی ادا سے پہلے

 دار فانی میں یہ کیا ڈھونڈھ رہی ہے فانی
 زندگی بھی کہیں ملتی ہے فنا سے پہلے

2 comments:

  1. بٹ صاحب، کلام کی بعد میں، آپ کے ذوق انتخاب کی داد پہلے

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ سلیم بھائی

      Delete