Pages

Monday, 14 January 2013

کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا Koi naala yahan rasa na howa

کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا
اشک بھی حرفِ مدعا نہ ہوا

تلخی درد ہی مقدر تھی
جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہوا

ماہتابی نگاہ والوں سے
دل کے داغوں کا سامنا نہ ہوا

آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں
میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا

وہ شہنشہ نہیں بھکاری ہے
جو فقیروں کا آسرا نہ ہوا

رہزن عقل و ہوش دیوانہ
عشق میں کوئی رہنما نہ ہوا

ڈوبنے کا خیال تھا ساغر
ہائے ساحل پہ ناخدا نہ ہوا

No comments:

Post a Comment