Pages

Thursday, 3 January 2013

مجبور شکایت ہوں تاثیر کو کیا کہیے Majboor shikyat hoon taseer ko kia keheyey

مجبور شکایت ہوں تاثیر کو کیا کہیے
تدبیر مقدر تھی تقدیر کو کیا کہیے

فردوس بداماں ہے ہر نقش خیال ان کا
یہ شان تصور ہے تصویر کو کیا کہیے

وابستہ صد حسرت، بے واسطہ دل ہوں
اپنا ہی میں زنداں ہوں زنجیر کو کیا کہیے

وہ برق کی یورش ہے ہر شاخ میں لرزش ہے
ایسے میں نشیمن کی تعمیر کو کیا کہیے

سنتے ہیں حجاب ان کا عرفان تمنا ہے
اب حرف تمنا کی تعبیر کو کیا کہیے

یا رب! تری رحمت سے مایوس نہیں فانی
لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے

No comments:

Post a Comment