وہ نظر کامیاب ہو کے رہی
دل کی بستی خراب ہو کے رہی
عشق کا نام کیوں کریں بدنام
زندگی تھی عذاب ہو کے رہی
نگہ شوق کا حال نہ پوچھ
سر بسر اضطراب ہو کے رہی
چشم ساقی کی تھی کبھی مخمور
خود ہی آخر شراب ہو کے رہی
تابِ نظارہ لا سکا نہ کوئی
بے حجابی، حجاب ہو کے رہی
ہم سے فانی نہ چھپ سکا غم دوست
آرزو، بے نقاب ہو کے رہی
دل کی بستی خراب ہو کے رہی
عشق کا نام کیوں کریں بدنام
زندگی تھی عذاب ہو کے رہی
نگہ شوق کا حال نہ پوچھ
سر بسر اضطراب ہو کے رہی
چشم ساقی کی تھی کبھی مخمور
خود ہی آخر شراب ہو کے رہی
تابِ نظارہ لا سکا نہ کوئی
بے حجابی، حجاب ہو کے رہی
ہم سے فانی نہ چھپ سکا غم دوست
آرزو، بے نقاب ہو کے رہی
No comments:
Post a Comment