Pages

Friday, 7 December 2012

وہ نظر کامیاب ہو کے رہی Wo nazar kamyab ho k rahi

وہ نظر کامیاب ہو کے رہی
دل کی بستی خراب ہو کے رہی

عشق کا نام کیوں کریں بدنام
زندگی تھی عذاب ہو کے رہی

نگہ شوق کا حال نہ پوچھ
سر بسر اضطراب ہو کے رہی

چشم ساقی کی تھی کبھی مخمور
خود ہی آخر شراب ہو کے رہی

تابِ نظارہ لا سکا نہ کوئی
بے حجابی، حجاب ہو کے رہی

ہم سے فانی نہ چھپ سکا غم دوست
آرزو، بے نقاب ہو کے رہی

No comments:

Post a Comment