Pages

Monday, 12 November 2012

بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے Bahar kia ab khizan bhi mujh ko galay


بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
میں برگِ صحرا ہوں ، یوں بھی مجھ کو ہَوا اُڑائے تو کچھ نہ پائے
میں پستیوں میں پڑا ہوا ہوں، زمیں کے ملبوس میں جڑا ہوں
مثالِ نقشِ قدم پڑا ہوں، کوئی مٹائے ، تو کچھ نہ پائے
تمام رسمیں ہی توڑ دی ہیں، کہ میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں
زمانہ اب مجھ کو آئینہ بھی، مرا دکھائے تو کچھ نہ پائے
عجیب خواہش ہے میرے دل میں، کبھی تو میری صدا کو سن کر
نظر جھکائے تو خوف کھائے ، نظر اُٹھائے تو کچھ نہ پائے
میں اپنی بے مائیگی چھپا کر، کواڑ اپنے کھلے رکھوں گا
کہ میرے گھر میں اداس موسم کی شام آئے تو کچھ نہ پائے
تو آشنا ہے نہ اجنبی ہے ، ترا مرا پیار سرسری ہے
مگر یہ کیا رسمِ دوستی ہے ، تو روٹھ جائے تو کچھ نہ پائے ؟
اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق دل میں تو یوں ہے محسن
کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا، کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے

2 comments:

  1. بھائی جان محسن نقوی کی 76 ہو گئی ہیں باقی شعرا پر بھی نظر کرم کریں :)

    ReplyDelete
  2. جی علی حسن بھائی آپ کی رائے سر آنکھوں پر

    ReplyDelete