Pages

Saturday, 6 October 2012

دل کی بستی خراب ہو کے رہی Dil ki basti kharaab ho key rahi



 وہ نظر کامیاب ہو کے رہی
 دل کی بستی خراب ہو کے رہی

 عشق کا نام کیوں کریں بدنام
 زندگی تھی عذاب ہو کے رہی

 نگہِ شوخ  کا مآل نہ پوچھ
 سربسر اضطراب ہو کے رہی

تم نے دیکھا ہے مرگِ مظلومی
جانِ صد انقلاب ہو کے رہی
 
 چشمِ ساقی، کہ تھی کبھی مخمور
 خود ہی آخر شراب ہو کے رہی

 تابِ نطارہ لا سکا نہ کوئی
 بے حجابی، حجاب ہو کے رہی

حشر کے دن کسی کی ہر بیداد
کرمِ بے حساب ہو کے رہی

سامنے دل کا آئینہ رکھ کر
ہر ادا لاجواب ہو کے رہی
 
 ہم سے فانی نہ چھپ سکا غمِ دوست
 آرزو، بے نقاب ہو کے رہی

No comments:

Post a Comment