Pages

Sunday, 28 October 2012

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی Chahat ka rang tha nan wafa ki lakeer thi


چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی
قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی
خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا
میرے لبوں پہ حرف دعا کی لکیر تھی
میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی
سورج کو جس نے شب کے اندھیروں میں گم کیا
موج شفق نہ تھی وہ قضا کی لکیر تھی
گزرا ہے سب کو دشت سے شاید وہ پردہ دار
ہر نقش پا کے ساتھ ردا کی لکیر تھی
کل اس کا خط ملا کہ صحیفہ وفا کا تھا
محسن ہر ایک سطر حیا کی لکیر تھی

No comments:

Post a Comment