Pages

Friday, 12 October 2012

وارفتگی سے مجھ کو کبھی دیکھتے تھے وہ Waraftagi sey mujh ko kabi daikhtey they wo

وارفتگی سے مجھ کو کبھی دیکھتے تھے وہ
نظروں میں راز دل کے سدا ڈھونڈتے تھے وہ

جب بڑھ گئی تھی تشنہ لبی دل کے گھاٹ  پر
پتھر نظر کے شام و سحر پھینکتے تھے وہ

پُر درد شب ہماری کبھی اس طرح کٹی
میں بھی نہ سو سکا تو اُدھر جاگتے تھے وہ

لگتی تھی راہِ زیست میں ٹھوکر کوئی اگر
تو بڑھ کے دونوں ہاتھ مرے تھامتے تھے وہ

بے تاب ہو کے کہتا تھا جب ان کو ’’ میری جاں‘‘
ہنس ہنس کے جھوٹ موٹ مجھے ڈانٹتے تھے وہ

اک عرضِ آرزو پہ مری جھینپ کے صفیؔ
ہاتھوں سے اپنا چہرہ سدا ڈھانپتے تھے وہ

No comments:

Post a Comment