Pages

Monday, 8 October 2012

زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے Zakham-e-dil pur bahar daikha hai


زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے
کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے

جن کے دامن میں‌کچھ نہیں ہوتا
ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے

خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں‌
زندگی کا وقار دیکھا ہے

تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر
گل کا سینہ فگار دیکھا ہے

ساقیا! اہتمامِ بادہ کر
وقت کو سوگوار دیکھا ہے

جذبہء غم کی خیر ہو ساغر
حسرتوں پر نکھار دیکھا ہے

No comments:

Post a Comment