آدمی، آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے که پھولوں کا؟
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
سلسله فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے
کاروبار جہاں سنورتے ہیں
ہوش جب بیخودی سے ملتا ہے
روح کو بهی مزا محبت کا
دل کی ہمسائگی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے که پھولوں کا؟
ReplyDeleteرنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
بہت عمدہ