کبھی جو روکا ہے دشوار مرحلوں نے مجھے
صدائیں دے کے بلایا ہے منزلوں نے مجھے
کسی خرابے میں جب رہبروں نے چھوڑ دیا
نشانِ راہ دکھایا ہے رہزنوں نے مجھے
اسی لئے میں رہا کامیاب دنیا میں
بڑے فریب سے لوٹا ہے دشمنوں نے مجھے
میں مشکلات سے نکلا ہوں گو کہ مشکل سے
سہولتوں نے ملایا ہے مشکلوں نے مجھے
میرے خلوص نے یہ معجزہ دکھایا ہے
گلے سے بڑھ کے لگایا ہے دشمنوں نے مجھے
عدُو نے نہر پہ پہرے بٹھا دئے جب بھی
فلک سے پانی پلایا ہے بادلوں نے مجھے
لبوں پہ اپنے تبسم چھپائے رکھتا ہوں
سبق دیا ہے میرے دل کی دھڑکنوں نے مجھے
صدائیں دے کے بلایا ہے منزلوں نے مجھے
کسی خرابے میں جب رہبروں نے چھوڑ دیا
نشانِ راہ دکھایا ہے رہزنوں نے مجھے
اسی لئے میں رہا کامیاب دنیا میں
بڑے فریب سے لوٹا ہے دشمنوں نے مجھے
میں مشکلات سے نکلا ہوں گو کہ مشکل سے
سہولتوں نے ملایا ہے مشکلوں نے مجھے
میرے خلوص نے یہ معجزہ دکھایا ہے
گلے سے بڑھ کے لگایا ہے دشمنوں نے مجھے
عدُو نے نہر پہ پہرے بٹھا دئے جب بھی
فلک سے پانی پلایا ہے بادلوں نے مجھے
لبوں پہ اپنے تبسم چھپائے رکھتا ہوں
سبق دیا ہے میرے دل کی دھڑکنوں نے مجھے
No comments:
Post a Comment