کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں
الجھتے آنسو بلا رہے تھے
مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا
نظر میں اک اور ہی جہاں تھا
نئے نئے منظروں کی خواہش میں
اپنے منظر سے کٹ گیا تھا،
نئے نئےدائروں کی گردش میں
اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں
صلہ، جزاء، خوف، نا امیدی
امید، امکان، بے یقینی،
ہزاروں میں بٹ گیا ہوں
اب اس سے پہلے کے رات اپنی کمند ڈالے،
یہ چاہتا ہوں کے لوٹ آؤں
عجب نہیں کےوہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو،
عجب نہیں آج بھی راہ میری دیکھتی ہو،
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھتے آنسو
ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں
عجب نہیں میرے لفظ مجھکو معاف کر دیں
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں
الجھتے آنسو بلا رہے تھے
مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا
نظر میں اک اور ہی جہاں تھا
نئے نئے منظروں کی خواہش میں
اپنے منظر سے کٹ گیا تھا،
نئے نئےدائروں کی گردش میں
اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں
صلہ، جزاء، خوف، نا امیدی
امید، امکان، بے یقینی،
ہزاروں میں بٹ گیا ہوں
اب اس سے پہلے کے رات اپنی کمند ڈالے،
یہ چاہتا ہوں کے لوٹ آؤں
عجب نہیں کےوہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو،
عجب نہیں آج بھی راہ میری دیکھتی ہو،
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھتے آنسو
ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں
عجب نہیں میرے لفظ مجھکو معاف کر دیں
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی
No comments:
Post a Comment