Pages

Sunday, 5 August 2012

کوئی خوشبو بکھرتی ہے Koi khusboo bikharti hai

کوئی خوشبو بکھرتی ہے
زمیں اور آسماں کے درمیاں پھیلے مناظر میں
بہت آہستگی سے جب  کوئی خوشبو بکھرتی ہے
تو آنکھوں میں ستاروں کا عجب میلہ سا لگتا ہے
ہوا سرگوشیاں پہنے دریچوں سے گذرتی ہیں
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے بے خانماں پتے
سفر آغاز کرتے ہیں
تو سپنوں پر حقیقت کا کوئی پرتو سا پڑتا ہے
صبا۔ قوسِ قزح کی راہ میں زینے بناتی ہے
اور اک بے نام سی آہٹ دبے پاؤں اُترتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
نیا موسم پرانے موسموں کی دھول سے
 چہرہ اُٹھاتا ہے
تو شبنم کاسۂ گل میں کئی سکے گراتی ہے
زمیں پہلو بدلتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی
بہت آہستگی سے پھر تیری خوشبو بکھرتی ہے

No comments:

Post a Comment