ہوا کی آواز
خشک پتوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے
روش روش پر فتادہ پھولوں نے
لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں
سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے
سیاہ کوؤں کے قافلوں سے اَٹی ہوئی ہیں
ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے
ہر ایک بستی کشاکش مرگ و زندگی سے نڈھال ہو کر
مسافروں کو پکارتی ہے کہ آؤ
مجھ کو خزاں کے بے مہر تلخ احساس سے بچاؤ
خشک پتوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے
روش روش پر فتادہ پھولوں نے
لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں
سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے
سیاہ کوؤں کے قافلوں سے اَٹی ہوئی ہیں
ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے
ہر ایک بستی کشاکش مرگ و زندگی سے نڈھال ہو کر
مسافروں کو پکارتی ہے کہ آؤ
مجھ کو خزاں کے بے مہر تلخ احساس سے بچاؤ
No comments:
Post a Comment