Pages

Thursday, 16 August 2012

ہوا کی آواز Hawa ki awaz

ہوا کی آواز
خشک پتوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے
روش روش پر فتادہ پھولوں نے
لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں
سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے
سیاہ کوؤں کے قافلوں سے اَٹی ہوئی ہیں
ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے
ہر ایک بستی کشاکش مرگ و زندگی سے نڈھال ہو کر
مسافروں کو پکارتی ہے کہ آؤ
مجھ کو خزاں کے بے مہر تلخ احساس سے بچاؤ

No comments:

Post a Comment