Pages

Wednesday, 1 August 2012

منزل و محمل- شانِ محمد Shan-e-Mohammad

مخلوق سے کیا ہو گی بیاں شانِ محمد
خُود خالقِ بر حق ہے ثنا خوانِ محمد
یہ راز عیاں ہوتا ہے تخلیقِ بشر سے
بَر تر ہیں ملائک سے غلامانِ محمد
چاہیں تو وہ دھتکار بھی دیں شاہوں کو در سے
وو طنطنہ رکھتے ہیں گدایانِ محمد
اظہارِ محبت کا اک انداز ہے یہ بھی
جبریلِ امیں بن گئے دربانِ محمد
ہیں حلقہ بگوش اُن کے جمادات و نباتات
اور شمس و قمر تابعِ فرمانِ محمد
اَللہ کی رحمت تو ہے اَللہ کی رحمت
فیضانِ محمد بھی ہے فیضانِ محمد
پھیلی ہوئی خوشبو میں کمی آ نہیں سکتی
شاداب ہے تا حشر گلستانِ محمد
سنتے نہیں جو ذوقِ سماعت سے ہیں محروم
ہے نغمہ سرا بلبلِ بستانِ محمد
خوش بخت ہیں وہ آج بھی جو دہر سے کٹ کر
ہَر آن ہیں شرمندہؑ اِحسانِ محمد
دنیا ہو کہ عقبےٰ ہو نہیں خوف تبسم
جب تک کہ ہیں وابستہؑ دامانِ محمد

قطعہ

ہے یاد جسے آج بھی فرمانِ محمد
حاصل ہے اُسے شفقتِ دامانِ محمد
بخشش اُسے لے لیگی قیامت کو پناہ میں
اللہ پہ ایمان ہے ایمانِ محمد
  م۔م تبسم کاشمیری

1 comment: