Pages

Tuesday, 10 July 2012

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے Bichad key mujh say kabhi tu ney

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے
یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے
میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں
کبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ہے
کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق ترا
یہ زہر دل میں اتر کر ہی راس آتا ہے
اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اس طرح محسن
کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے
محسن نقوی

No comments:

Post a Comment