Pages

Thursday, 26 July 2012

اداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی Udaadiyoon ka saman mehfiloon mein chod gai

اداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی
بہار ایک خلش سی دلوں میں چھوڑ گئی
بچھڑ کے تجھ سے ہزاروں طرف خیال گیا
تری نظر مجھے کن منزلوں میں چھوڑ گئی
کہاں سے لائیے اب اُس نگاہ کو ناصر
جو ناتمام امنگیں دلوں میں چھوڑ گئی

No comments:

Post a Comment