Pages

Wednesday, 4 July 2012

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے Tu iss qadar mujhey apney qareeb lagta hai

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے
تجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہے
جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار
وہ شخص مجھ کو بہت بدنصیب لگتا ہے
حدودِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ زرا
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص
کبھی کبھی یہ سب کچھ عجیب لگتا ہے
اُفق پہ دور چمکتا ہوا کوئی تارا
مجھے چراغِ دیارِ حبیب لگتا ہے
نہ جانے کب کوئی طوفان آئے گا یارو
بلند موج سے ساحل قریب لگتا ہے
جان نثار اختر

No comments:

Post a Comment