Pages

Saturday, 9 June 2012

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا Dasht ko daikh key ghar yaad ayeya

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
ہمیں یوسف کا سفر یاد آیا
میں نے تلوار پہ سر رکھا تھا
یعنی تلوار سے سر یاد آیا
وہ تری کم سخنی تھی کہ مجھے
بات کرنے کا ہنر یاد آیا
اے زمانے مرے پہلو میں ٹھہر
پھر سلامِ پسِ در یاد آیا
کسے اڑتے ہوئے دیکھا کہ تمہیں
اپنا ٹوٹا ہوا پر یاد آیا
آج میں خود سے ملا ہوں طالب
آج بھولا ہوا گھر یاد آیا

No comments:

Post a Comment