کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
توڑ کر دیکھ لیا آئینہ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا
جب کبھی تجھ کو پکارا میری تنہائی نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا نکلا
نظر آیا تھا سر بام مظفر کوئی
پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا
No comments:
Post a Comment