Pages

Thursday, 7 June 2012

وہ دے رہا ہے دلاسے عمر بھر کے مجھے Wo dey raha hai dilasey umer bhar key mujhey



وہ دے رہا ہے دلاسے عمر بھر کے مجھے
بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کرکے مجھے

جہا‌ں نہ تو، نہ تری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے

ہوائے دشت اب تو مجھے اجنبی نہ سمجھ
کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے

دلِ تباہ ، ترے غم کو ٹالنے کے لیے
سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے

کچھ اس لیے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسن
وہ دُور دُور سے دیکھے ، ٹھہر ٹھہر کے مجھے

No comments:

Post a Comment