Pages

Thursday, 28 June 2012

اب تیری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو Ab teri yaad sey wehshat nahin hoti mujh ko

اب تیری یاد سے وحشت نہیں‌ہوتی مجھ کو
زخم کھلتے ہیں پر ازیت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں

اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو

ایسے بدلہ ہوں تیرے شہر کا پانی پی کر

جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں‌ ہوتی مجھ کو

ہے امانت میں‌خیانت سو کسی کی خاطر

کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں‌ہوتی مجھ کو

محسن نقوی

4 comments:

  1. یہ شاہد ڈکی کی غزل ہے محسن کی نہیں

    ReplyDelete
  2. یہ غزل شاہد زکی کی ہے اور ان کی کتاب سفال میں آگ جو کہ ہم خیال پبلشرز نے ۲۰۰۶ میں شائع کی، کے صفحہ نمبر ۳۳-۳۴ پر موجود ہے آپ تمام لوگ اپنے ریکارڈ کی درستی کرلیں..... المیہ یہ ہے کہ ہمارے قارئین کو کل ملا کر چار شعرا کا نام آتا ہے .... سنجیدہ قارئین سے التماس ہے کہ اپنے علم میں اضافہ کریں اور شاہد زکی جیسے اعلی شاعر کا کلام محسن نقوی سے منسوب نہ کریں.... اور چار کتابیں پڑھیں تاکہ ٹھیک شاعر پہچاننے کا طریقہ آئے.....

    ReplyDelete
  3. اگر یہ معلومات درست ہیں تو بہت شکریہ

    ReplyDelete