Pages

Friday, 18 May 2012

اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے Ab key yun dil ko saza di hum ney


اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
ایک ، ایک پھول بہت یاد آیا
شاخ گل جب وہ جلا دی ہم نے
آج تک جس پے وہ شرماتے ہیں
بات وہ کب کی بھلا دی ہم نے
شہر جہاں راکھ سے آباد ہوا
آگ جب دل کی بجھا دی ہم نے
آج پھر یاد بہت آیا وہ
آج پھر اس کو دعا دی ہم نے
کوئی تو بات ہے اس میں فیض
ہر خوشی جس پے لٹا دی ہم نے

No comments:

Post a Comment