مجھ کو دیکھے گا مسکرا دے گا
پھول صحرا میں پھر کھلا دے گا
جو ہیں محتاج ان سے کیا مانگیں
آدمی، آدمی کو کیا دے گا
پہلے کردار سے بنو موسیٰ
پھر سمندر بھی راستہ دے گا
مجھ کو بے چہرہ گی عطا کرکے
پھر وہ تحفے میں آئینہ دے گا
پہلے شامل کرے گا ہستی میں
اور ہستی کو پھر مٹا دے گا
وہ طرفدار پھر ہوا کا ہے
شمع تجھ کو وہ پھر بجھا دے گا
پھول صحرا میں پھر کھلا دے گا
جو ہیں محتاج ان سے کیا مانگیں
آدمی، آدمی کو کیا دے گا
پہلے کردار سے بنو موسیٰ
پھر سمندر بھی راستہ دے گا
مجھ کو بے چہرہ گی عطا کرکے
پھر وہ تحفے میں آئینہ دے گا
پہلے شامل کرے گا ہستی میں
اور ہستی کو پھر مٹا دے گا
وہ طرفدار پھر ہوا کا ہے
شمع تجھ کو وہ پھر بجھا دے گا
No comments:
Post a Comment