شفق جو روۓ سحر پر گلال ملنے لگی
یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگنے لگی
اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں
ابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگی
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
کسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی
تو پور پور میری، مثل شمع جلنے لگی
میں ناپتا چلا قدموں سے اپنے ساۓ کو
کبھی جو دشت مسافت میں دھوپ ڈھلنے لگی
مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا
یہ برف سی تیرے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی
یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگنے لگی
اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں
ابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگی
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
کسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی
تو پور پور میری، مثل شمع جلنے لگی
میں ناپتا چلا قدموں سے اپنے ساۓ کو
کبھی جو دشت مسافت میں دھوپ ڈھلنے لگی
مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا
یہ برف سی تیرے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی
No comments:
Post a Comment