Pages

Tuesday, 29 May 2012

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے Baat phoolon ki suna kartey they

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے

مشعلیں لے کے تمھارے غم کی
ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے

اب کہاں ایسی طبیعت والے
چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

ترک احساس محبت مشکل
ہاں مگر اہل وفا کرتے تھے

بکھری بکھری زلفوں والے
قافلے روک لیا کرتے تھے

آج گلشن میں شغف ساغر
شکوے باد صباء سے کرتے تھے

No comments:

Post a Comment