Pages

Friday, 18 May 2012

چراغ بن کے وہی جھلملائے شام فراق Chiragh ban key wohi jhilmilayey sham-e-firaq

چراغ بن کے وہی جھلملائے شام فراق
بچا لئے تھے جو آنسو برائے شام فراق
کرھر چلے گئے وہ ہم نوائے شام فراق
کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شام فراق
یہ رینگتی چلی آتی ہیں کیا لکیریں سی
یہ ڈھونڈتی ہیں کسے سائے سائے شام فراق
کبھی یہ فکر کہ دن کو بھی منہ دکھانا ہے
کبھی یہ غم کہ پھر آئے نہ آئے شام فراق
وہ اشک خوں ہی سہی دل کا کوئی رنگ تو ہو
اب آ گئی ہے تو خالی نہ جائے شام فراق
بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر

کہاں چلی ہے یہ کاسہ اُٹھائے شام فراق

No comments:

Post a Comment