چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
دستِ قدرت کو بے اثر کر دے
تیز ہے آج دردِ دل ساقی
تلخیِ مے کو تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے
فیض تکمیلِ آرزو معلوم!
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے
دستِ قدرت کو بے اثر کر دے
تیز ہے آج دردِ دل ساقی
تلخیِ مے کو تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے
فیض تکمیلِ آرزو معلوم!
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے
No comments:
Post a Comment