Pages

Friday, 25 May 2012

زخم بھر جاتے ہیں Zakham bhar jatey hain

زخم بھر جاتے ہیں

ذہنوں سے اُتَر جاتے ہیں

دن گزرتا ہے تو پھر شب بھی گزر جاتی ہے

پھول جس شاخ سے جھڑ جاتے ہیں

مر جاتے ہیں

چند ہی روز میں

اس شاخ پہ آئندہ کے پھولوں کے نگینے سے

ابھر آتے ہیں !

تیرے جانے سے میری ذات کے اندر

جو خلا گونجتا ہے

اک نا اک دن اسے بھر جانا ہے

اک نا اک روز تجھے

میری پھیلی ہوئی ، ترسی ہوئی بانہوں میں

پلٹ آنا ہے !

No comments:

Post a Comment