Pages

Thursday, 17 May 2012

خرد بیزار دل سے Khirad bezaar dil sey

خرد واقف نہيں ہے نيک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے
خدا جانے مجھے کيا ہو گيا ہے
خرد بيزار دل سے ، دل خرد سے

No comments:

Post a Comment