Pages

Monday, 21 May 2012

تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر Neya hai sheher nayey Aasrey talash karoon



نیا ہے شہر ، نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے ، کہاں اب تجھے تلاش کروں


تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اُتَر
تیرے لیے میں کہاں آئینے تلاش کروں


غزل کہوں ، کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں


میرے وجود سے شاید ملے سراغ اسکا
میں خود کو بھی تیرے واسطے تلاش کروں


میں چپ رہوں ، کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسن
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں

No comments:

Post a Comment