Pages

Friday, 18 May 2012

او میرے مصروف خدا O merey masroof khuda

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا

اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سنّاٹا

جھونپڑی والوں کی تقدیر
بجھا بجھا سا ایک دیا

خاک اڑاتے ہیں دن رات
میلوں پھیل گۓ صحرا

زاغ و زغن کی چیخوں سے
سونا جنگل چیخ اُٹھا

پیاسی دھرتی جلتی ہے
سوکھ گۓ بہتے دریا

فصلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا

No comments:

Post a Comment