Pages

Subscribe:

Saturday, 30 June 2012

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ
تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر رہا ہے مرا سر گردشِ ایام کے ساتھ
سن کر نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں!
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ
پرورش پاتی ہے دامانِ رفاقت میں ریا
اہلِ عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ
کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دلِ ناکام کے ساتھ
یاس آئینۂ امید میں نقاشِ الم
پختہ کاری کا تعلق ہوسِ خام کے ساتھ
شب ہی کچھ نازکشِ پرتوِ خورشید نہیں
سلسلہ تونگر کے شبستاں میں چراغانِ بہشت
وعدۂ خلدِ بریں کشتۂ آلام کے ساتھ
کون معشوق ہے ، کیا عشق ہے ، سودا کیا ہے؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا ہے
احسان دانش
مکمل تحریر اور تبصرے >>

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہو گا

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا
نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی کجلا گئی تو کیا ہوگا
نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھے
میں بے ادب ہوں ہنسی آگئی تو کیا ہوگا
غمِ حیات سے بے شک ہے خود کشی آسان
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا
شبابِ لالہ و گل کو پکارنے والو!
خزاں سرشتِ بہار آگئی تو کیا ہوگا
یہ فکر کر کے اس آسودگی کے ڈھوک میں
تیری خودی کو بھی موت آگئی تو کیا ہوگا
خوشی چھنی ہے تو غم کا بھی اعتماد نہ کر
جو روح غم سے بھی اکتا گئی تو کیا ہوگا
احسان دانش
مکمل تحریر اور تبصرے >>

منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ

منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی ملے ہیں بڑی بے رُخی کے ساتھ
یوں تو مَیں ہنس پڑا ہُوں تمہارے لیے مگر
کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اِک ہنسی کے ساتھ
فرصت مِلے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
اے دوست یوں نہ کھیل میری بے بسی کے ساتھ
مجبوریوں کی بات چلی ہے تو مئے کہاں
ہم نے پِیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا بُرا سلوک میری سادگی کے ساتھ
اِک سجدۂ خلوص کی قیمت فضائے خلد
یاربّ نہ کر مذاق میری بندگی کے ساتھ
محسن کرم بھی ہو جس میں خلوص بھی
مجھ کو غضب کا پیار ہے اُس دشمنی کے ساتھ
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اُجڑے ہُوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر

اُجڑے ہُوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیے کیوں تیز ہَوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اُڑا کر
اب دستکیں دے گا تُو کہاں اے غمِ احباب!
میں نے تو کہا تھا کہ مِرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گِرا کر
برہم نہ ہو کم فہمی کوتہ نظراں پر ۔۔۔۔۔!
اے قامتِ فن اپنی بلندی کا گِلا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تُو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر!
میں مر بھی چکا، مل بھی چکا موجِ ہوا میں
اب ریت کے سینے پہ مِرا نام لکھا کر
پہلا سا کہاں اب مِری رفتار کا عالم
اے گردشِ دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر
اِس رُت میں کہاں پھول کھلیں گے دلِ ناداں
زخموں کو ہی وابستہء زنجیرِ صبا کر
اِک رُوح کی فریاد نے چونکا دیا مجھ کو
تُو اب تو مجھے جسم کے زنداں سے رہا کر
اِس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں *محسن*
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوکِ سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آکر دیکھا
پیاس یادوں کو اب اس موڑ پہ لے آئی ہے
ریت چمکی تو یہ سمجھے کہ سمندر دیکھا
ایسے لپٹے ہیں دروبام سے اب کے جیسے
حادثوں نے بڑی مدت میں میرا گھر دیکھا
زندگی بھر نہ ہوا ختم قیامت کا عذاب
ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا
اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھا دیکھا
دکھ ہی تھا ایسا کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تو نے نفرت سے جو دیکھا تو مجھے یاد آیا

تو نے نفرت سے جو دیکھا تو مجھے یاد آیا
کیسے رشتے تیری خاطر یونہی توڑ آیا ہوں
کتنے دھندلے ہیں یہ چہرے جنہیں اپنایا ہے
کتنی اُجلی تھیں وہ آنکھیں جنہیں چھوڑ آیا ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آ جا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا

آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے
مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جيسا ہے
يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات
مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے
مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار
ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے
بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے
تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر
کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے
تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ
ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر
مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے
ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 29 June 2012

کس قدر آگ برستی ہے یہاں

کس قدر آگ برستی ہے یہاں
خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں

صرف اندیشۂ افعی ہی نہیں
پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں

رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا
اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

زندہ درگور ہُوئے اہلِ نظر
کس قدر مُردہ پرستی ہے یہاں

زیست وہ جنسِ گراں ہے کہ فراز
موت کے مول بھی سَستی ہے یہاں

احمد فراز
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
منیر نیازی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیئے

بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گُم صُم کھڑی ہیں‌دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر صدیقی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

گل تیرا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں

مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں!
دل کی لَو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں

حُسن بیگانۂ احساسِ جمال اچھا ہے
غنچے کھِلتے ہیں تو بِک جاتے ہیں بازاروں میں

ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پرو لائے ہیں تلواروں میں

رُت بدلتی ہے تو معیار بدل جاتے ہیں
بلبلیں خار لیے پھرتی ہیں منقاروں میں

چُن لے بازارِ ہنر سے کوئی بہروپ ندیمؔ
اب تو فنکار بھی شامل ہیں اداکاروں میں

احمد ندیم قاسمی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 28 June 2012

اب تیری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تیری یاد سے وحشت نہیں‌ہوتی مجھ کو
زخم کھلتے ہیں پر ازیت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں

اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو

ایسے بدلہ ہوں تیرے شہر کا پانی پی کر

جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں‌ ہوتی مجھ کو

ہے امانت میں‌خیانت سو کسی کی خاطر

کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں‌ہوتی مجھ کو

محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہے ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا

تم موج موج مثل صباء گھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر ، تم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، اُنہیں رستہ دکھاؤ

میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا

لے جائیں مجھے مال غنیمت کے ساتھ

تم نئے تو ڈال دی ہے سیپار ، تم کو اس سے کیا

تم نئے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا

پروین شاکر . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سب مایا ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے

جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے

ابن انشاؑ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری

اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری

آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری

میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہم نفسوں پر لب ِدریا گزری

آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست یہ ساعت تو ہمیشہ گزری

میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز
ورنہ اس شہر ِتمنا سے تو دنیا گزری

احمد فراز
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کب سماں تھا بہار سے پہلے

کب سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے

ایک ننھا سا آرزو کا دیا
ضوفشاں تھا بہار سے پہلے

اب تماشا ہے چار تنکوں‌کا
آشیاں تھا بہار سے پہلے

اے مرے دل کے داغ یہ تو بتا
تو کہاں تھا بہار سے پہلے

پچھلی شب میں خزان کا سناٹا
ہم زباں‌تھا بہار سے پہلے

چاندنی میں‌یہ آگ کا دریا
کب رواں تھا بہار سے پہلے

بن گیا ہے سحابِ موسمِ گل
جو دھواں تھا بہار سے پہلے

لُٹ گئی دل کی زندگی ساغر
دل جواں‌تھا بہار سے پہلے

ساغر صدیقی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یوں چلئے راہ شوق میں جیسے ہوا چلے

یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے
ہم بیٹھ بیٹھ کر جو چلےبھی تو کیا چلے

بیٹھے اُداس اُٹھے پریشان خفا چلے
پوچھے تو کوئی آپ سے کیا آئے کیا چلے
یو
آئینگی ٹوٹ ٹوٹکر قاصد پر آفتیں
غافل اِدھر اُدھر بھی ذرا دیکھتا چلے

ہم ساتھ ہو لئے تو کہا اُس نے غیر سے
آتا ہے کون اس سے کہو یہ جُدا چلے

بالیں سے میرے آج وہ یہ کہہ کے اُٹھے گی
اس پر دوا چلے نہ کسی کی دعا چلے

موسیٰ کی طرح راہ میں پوچھی نہ راہ راست
خاموش خضر ساتھ ہمارے چلا چلے

افسانہء رقیب بھی لو بے اثر ہوا
بگڑی جو سچ کہے سے وہاں جھوٹ کیا چلے

رکھا دل و دماغ کو تو روک تھام کر
اس عمر بیوفا پہ مرا زور کیا چلے

بیٹھا ہے اعتکاف میں‌کیا داغ روزہ دار
اے کاش میکدہ کو یہ مردِ خدا چلے

داغ دہلوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آپ کا اعتبار کون کرے

آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے

ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

جو ہو اس چشم مست سے بیخود
پھر اسے ہوشیار کون کرے

تم تو ہو جان اِک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے

آفتِ روزگار جب تم ہو
شکوہء روزگار کون کرے

اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے

ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے

آنکھ ہے ترک زلف ہی صیّاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے

غیر نے تم سے بیوفائی کی
یہ چلن اختیار کون کرے

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے

داغ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے

داغ دہلوی 
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 26 June 2012

وہ باتیں تیری وہ فسانے ترے


وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

بس ایک داغِ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، آستانے ترے

بس ایک زخمِ نظارہ، حصہ مرا
بہاریں تری، آشیانے ترے

فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی
ہیں بھر پور جب تک خزانے ترے

فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری، بادہ خانے ترے


ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے

بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے، سب زمانے ترے

عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے

عبدالحمید عدم
مکمل تحریر اور تبصرے >>

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق

اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق

آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق

کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق

ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق

ديکھ حالت مری کہيں کافر
نام دوزخ کا کيوں دھرا ہے عشق

ديکھیے کس جگہ ڈبو دے گا
ميری کشتی کا نا خدا ہے عشق

آپ مجھ سے نباہيں گے سچ ہے
با وفا حسن بے وفا ہے عشق

قيس و فرہاد وامق و مومن
مر گئے سب ہی کيا وبا ہے عشق

مومن خان مومن
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مجھ سا جہان میں نادان بھی نہ ہو

مجھ سا جہان میں نادان بھی نہ ہو
کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو
کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا ضرور ہے
بِن میرے شائد آپ کی پہچان بھی نہ ہو
آشفتہ سر جو لوگ ہیں مشکل پسند ہیں
مشکل نہ ہو جو کام تو آسان بھی نہ ہو
محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا
لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو
خوابوں سی دلنواز حقیقت نہیں کوئی
یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو
رونا یہی تو ہے کہ اسے چاہتے ہیں ہم
اے سعد جس کے ملنے کا امکان بھی نہ ہو
سعد اللہ شاہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پس مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا

پسِ مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
اُسے آہ دامنِ باد نے سرِ شام ہی بجھا دیا
مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اُس سے کہنا
وہ جو تیرا عاشقِ زار تھا، تہ خاک اُس کو دبا دیا
دمِ غسل سے مرے پیشتر، اُسے ہمدموں نے یہ سوچ کر
کہیں جاوے نہ اس کا دل دہل مری لاش پر سے ہٹا دیا
مری آنکھ جھپکی تھی ایک پل میرے دل نے چاہا کہ اٹھ کہ چل
دلِ بیقرار نے او میاں! وہیں چٹکی لے کے جگا دیا
میں نے دل دیا، میں نے جان دی! مگر آہ تو نے قدر نہ کی
کسی بات کو جو کبھی کہا، اسے چٹکیوں میں اڑا دیا
بہادر شاہ ظفر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا
تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پل نہ جیئیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اس طرح سے ترے بغیر روز و شب
میں سانس لے رہا تھا پر زندہ نہیں رہا
آنکھیں بھی دیکھ دیکھ کے خواب آ گئی ہیں تنگ
دل میں بھی اب وہ شوق، وہ لپکا نہیں رہا
کیسے ملائیں آنکھ کسی آئنے سے ہم
امجد ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا
امجد اسلام امجد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا
جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا
میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں
پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا
میں زندگی کے ہر اک مرحلے سے گزرا ہوں
کبھی میں خار بنا اور کبھی گلاب ہوا
سمندروں کا سفر بھی تو دشت ایسا تھا
جسے جزیرہ سمجھتے تھے اک سراب ہوا
وہ پوچھتا تھا کہ آخر ہمارا رشتہ کیا
سوال اس کا مرے واسطے جواب ہوا
ہماری آنکھ میں دونوں ہی ڈوب جاتے ہیں
وہ آفتاب ہوا یا کہ ماہتاب ہوا
نہ اپنا آپ ہے باقی نہ سعد یہ دنیا
یہ آگہی کا سفر تو مجھے عذاب ہوا
سعد اللہ شاہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم ۔ اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
اے درد بتا کچھ تو ہی پتہ ۔ اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بےتاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم
مرغان قفس کو پھولوں نے اے شاد یہ کہلا بھیجا ہے
آجاو! جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم
شاد عظیم آبادی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے 
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو، جو سنا نہیں وہ کہا کرو
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمئ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
بشیر بدر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 25 June 2012

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحو

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحو

ذرا ٹہرو کہ میری سانسیں بہت مدھم ہیں

میرے اشکوں نے میری آنکھوں سے بغاوت کی ہے

میرے چہرے پہ کسی غم کی سیاہی ہے

زندگی درد کے صحرا سے گزر آئی ہے

میری یادوں میں وہ قدموں کے نشاں باقی ہیں

جن قدموں سے وہ میری اور چلی آتی تھی

ان آنکھوں میں کبھی مجھ کو ٹھکا نہ نا ملا

جن آنکھوں میں محبت کی ضیا پائی تھی

اب وہ آنکھیں چمکتی ہیں سیاہ راتوں میں

بے کلی اور بڑھاتی ہے میرے دل کی

اس کی باتوں میں اترتی ہوئی مدھم شوخی

اس کے ماتھے سے چھلکتی ہوئی تاروں سی چمک

اس کا مخمور نگاہوں سے تکنا میرا

جس کی حدت سے مری جاں نکل جاتی تھی

میرے بے ربط سوالوں کے جوابوں میں

بڑے غور سے مرے چہرے کو تکنا اس کا

میرے دل کے نہاں خانے میں چھپی بیٹھی ہیں

وہ یادیں جو کبھی حال کا آئینہ تھیں

وہ منظر کہ جسے پانے کو اب ترستی ہے نگاہ

وہ راتیں جو مچلتی تھیں ملاقاتوں کیلئے



مرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

تم جو آتے ہو تو من کے نہاں خانوںمیں

کسی ہستی کو مجسم بنا دیتے ہو

وہ تخیل کے جسے چھونے کی اجازت ہی نہیں

وہ پیکر جو اب کسی اور کی امانت ہے

میرے پہلو میں اب یادوں کے سوا کیا ہے

اب میرے پاس ان دفینوں کے سوا کیا ہے

یوں نہ ہو کہ یہ دفینے مٹا دے مجھ کو

میری ہستی اس بے نام سی کسک میں ہی

خاک ہو جائے اور کسی کو پتہ ہی نہ چلے

میرے اپنے میری وحشت سے گریزاں ہو کر

اپنے ہاتھوں کو چھڑا لیں مرے ہاتھوں سے

میری آنکھوں میں اک صحرا کے سوا کچھ بھی نہ ہو

میری پلکوں پہ اشکوں کے سوا کچھ بھی نہ رہے


مرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

یہ حقیقت بھی کسی طور سمجھ لینے دو

زندگی ایک ہی تخیل کا جہاں تو نہیں ہے

کئی رنگ میرے اب بھی منتظر سے ہیں

انھیں دیکھو،انھیں سمجھوں، انھیں اپنا لوں میں

غم یارں سے نکل کر مجھے جینے دو

ہے بڑا حبس تھوڑی سانس ہی لے لینے دو

مجھے چھوڑو کہ مجھے اب تو جی لینے دو

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

ذرا ٹہرو کہ میری سانسیں بہت مدھم ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا؟

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا؟
ایک پردہ جو اُٹھا ، دوسرا پردا نکلا
منظرِ زیست سراسر تہ و بالا نکلا
غور سے دیکھا تو ہر شخص تماشا نکلا

ایک ہی رنگ کا غم خانۂ دنیا نکلا

غمِ جاناں بھی غمِ زیست کا سایا نکلا

اس رہِ عشق کو ہم اجنبی سمجھے تھے مگر

جو بھی پتھر ملا ، برسوں کا شناسا نکلا

آرزو، حسرت و ا ُمید ، شکایت ، آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

جو بھی گزرا تری فرقت میں وہ اچھا گزرا

جو بھی نکلا مری تقدیر میں ا چھا نکلا

گھر سے نکلے تھے کہ آئینہ دکھائیں سب کو

اور ہر عکس میں خود اپنا سراپا نکلا

کیوں نہ ہم بھی کریں اُس نقش ِ کفِ پا کی تلاش؟

شعلۂ طور بھی تو ایک بہانا نکلا

جی میں تھا بیٹھ کے کچھ اپنی کہیں گے سرور

تو بھی کم بخت زمانہ کا ستایا نکلا
سرور عالم راز سرور
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 23 June 2012

تم کیسی محبت کرتے ہو

تم کیسی محبت کرتے ہو۔
تم جب بھی گھر پر آتے ہو
اور سب سے باتیں کرتے ہو
میں اوٹ سے پردے کی جاناں
بس تم کو دیکھتی رہتی ہوں
اک تم کو دیکھنے کی خاطر
میں کتنی پاگل رہتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو۔
جب دروازے پر دستک ہو
یا گھنٹی فون کی بجتی ہو
میں چھوڑ کے سب کچھ بھاگتی ہوں
اور تم کو جو نہ پاؤں تو
جی بھر کے رونے لگتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
محفل میں کہیں بھی جانا ہو
کپڑوں کا سلیکشن کرنا ہو
رنگ بہت سے سامنے بکھرے ہوں
اس رنگ پہ دل آ جاتا ہے
جو رنگ کہ تم کو بھاتا ہے
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
روزانہ اپنے کالج میں
کسی اور کا لیکچر سنتے ہوئے
یا بریک کے خالی گھنٹے میں
سکھیوں سے باتیں کرتے ہوئے
میرے دھیاں میں تم آ جاتے ہو
میں، میں نہیں رہتی پھر جاناں
میں تم میں گم ہو جاتی ہوں
بس خوابوں میں کھو جاتی ہوں
ان آنکھوں میں کھو جاتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
جس چہرے پر بھی نگاہ پڑے
ہر چہرہ تم سا لگتا ہے
وہ شام ہو یا دھوپ سمے
سب کتنا بھلا سا لگتا ہے
جانے یہ کیسا نشہ ہے
گرمی کا تپتا موسم بھی
جاڑے کا مہینہ لگتا ہے
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
تم جب بھی سامنے آتے ہو
میں تم سے سننا چاہتی ہوں
کاش کبھی تم یہ کہ دو
تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
تم بھی مجھ کو بہت ہی چاہتے ہو
لیکن جانے تم کیوں چپ ہو
یہ سوچ کے دل گھبراتا ہے
ایسا تو نہیں ہے نا جاناں
سب میری نظر کا دھوکہ ہے
تم نے مجھ کو چاہا ہی نہ ہو
کوئی اور ہی دل میں رہتا ہو
میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں
میں تم سے کہنا چاہتی ہوں
لیکن کچھ پوچھ نہیں سکتی
مانا کہ محبت ہے پھر بھی
لب اپنے کھول نہیں سکتی
میں لڑکی ہوں کیسے کہ دوں
میں کیسی محبت کرتی ہوں
میں تم سے یہ کیسے پوچھوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
چپ چاپ سی میں ہو جاتی ہوں
پھر دل میں اپنے کہتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

فاصلہ توہے مگر (جگجیت چترا)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن (جگجیت چترا)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

آنکھ سے آنکھ ملا بات بناتا کیوں ہے (چترا سنگھ)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 22 June 2012

دل دکھتا ہے


دِل دُکھتا ھے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بَن میں آگ جلے
دِل دُکھتا ھے
پردیس کی بوجھل راھوں میں
... جب شام ڈھلے
دِل دُکھتا ھے
جب رات کا قاتل سناٹا
پُرھول فضا کے وہم لیے
قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے
دِل دُکھتا ھے
جب وقت کا "نابینا جوگی"
کچھ ہنستے بستے چہرے پر
بے دَرد رُتوں کی خاک مَلے
دِل دُکھتا ھے

دِل دُکھتا ھے
جب شہ رگ میں محرومی کا
نشتر ٹوٹے
دِل دُکھتا ھے
جب ہاتھ سے ریشم رِشتوں کا
دامن چھوٹے
دِل دُکھتا ھے
جب تنہائی کے پہلو سے
انجانے درد کی لَے پُھوٹے
دِل دُکھتا ھے

دِل دُکھتا ھے
زرداب رُتوں کے سائے میں
جب پھول کِھلیں
دِل دُکھتا ھے
جب زخم دہکنے والے ھوں
اور خوشبو کے پیغام ملیں
اور اپنے دریدہ دامن کے
جب چاک سلیں
دِل دُکھتا ھے

جب آنکھیں خود سے خواب بُنیں
خوابوں میں بسرے چہروں کی
جب بَھیڑ لگے
اس بھیڑ میں جب تم کھو جاؤ
دِل دُکھتا ھے
جب حبس بڑھے تنہائی کا
جب خواب جلیں، جب آنکھ بُجھے
تم یاد آؤ
دِل دُکھتا ھے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سیف الملوک 2


مکمل تحریر اور تبصرے >>

سیف الملوک


مکمل تحریر اور تبصرے >>

گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں



گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مُکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
" اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں "

بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجد
وہ حرف رِہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں   

مکمل تحریر اور تبصرے >>

نئے دنوں کے نئے سفر میں دھیان رکھنا

نئے دنوں کے نئے سفر میں دھیان رکھنا
خاموش ، چپ چاپ
کچھ نا کہتی ان ساعتوں نے
سونپ ڈالے نئے تقاضے رفاقتوں کے
دھیان رکھنا
کے اپنے حصے کے سب تقاضے نبھانے ہیں
ساتھ چلتے ہوئے سفر میں
ہر اک ڈگر پہ چاہتوں کے گلاب لکھنا
ورق ورق اعتماد جس میں
حرف حرف میں ہو جان نثاری
نئی خوشیاں ، نئے مناظر
نئی مثالیں ، نئے حوالے
بس ایک ایسی ہی محبتوں کی کتاب لکھنا
نئے دنوں کے نئے سفر میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 21 June 2012

اب کے یوں بھی تیری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے

اب کے یو ں بھی تری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے
رنگ پھوٹے ، کہیں خوشبو کی رسن ٹوٹی ہے
موت آئی ہے کہ تسکین کی ساعت آئی
سانس ٹوٹی ہے کہ صدیوں کی تھکن ٹوٹی ہے
سینۂ گل جہاں نکہت بھی گراں ٹھہری تھی
تیر بن کر وہاں سورج کی کرن ٹوٹی ہے
دِل شکسہ تو کئی بار ہوئے تھے لیکن
اب کے یوں ہے کہ ہر اک شاخِ بدن ٹوٹی ہے
اتنی بے ربط محبت بھی کہاں تھی اپنی
درمیاں سے کہیں زنجیرِ سخن ٹوٹی ہے
اک شعلہ کہ تہِ خیمۂ جاں لپکا تھا
ایک بجلی کہ سرِ صحنِ چمن ٹوٹی ہے
سلسلہ تجھ سے بچھڑنے پہ کہاں ختم ہوا
اک زمانے سے رہ و رسم کہن ٹوٹی ہے
مرے یاروں کے تبسم کی کرن مقتل میں
نوکِ نیزہ کی طرح زیرِ کفن ٹوٹی ہے
ریزہ ریزہ میں بکھرتا گیا ہر سو محسن
شیشہ شیشہ مری سنگینیء فن ٹوٹی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا
یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا
بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ہے خطوں میں
مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا
وہ شخص خزاں رُت میں محتاط رہے کتنا
سوکھے ہوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا
اِک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گبرو
پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا
وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا
روٹھے تو رُوتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا
میں اُس کو مناؤں کہ غمِ دہر سے اُلجھوں
محسن وہ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

عہد وفا شوق ہے بیکار لوگوں کا


چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے
عہدٍ وفا شغل ہے بےکار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
چلو چھوڑو
کب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانسوں کی ضربوں پہ
چاہت کے بنا رکھ کر سفر کرتا رہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تم بھی موسم کے ساتھ پیرہن کے رنگ بدلو گے
چلو چھوڑو
میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے
تم اپنے خل و خلود کو آئینے میں پھر بکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے ایک نیا موسم اتار دو
میرے بکھرے خوابوں کو مرنے دو
پھر نیا مکتوب لکھو
پھر نئے موسم، نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگان سمجھو
میری یادوں کے کچے رابطے توڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹی ہے
عہدٍ وفا شغل ہے بیکار لوگوں کا

محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ابھی کیا کہیں--------ابھی کیا سنیں


ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کہ سر ِ فصیل ِ سکوت ِ جاں
کف ِ روز و شب پہ شرر نما
وہ جو حرف حرف چراغ تھا
اسے کس ہوا نے بجھا دیا ؟
کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا!
سر ِ شہر ِ عہد ِ وصال ِ دل
وہ جو نکہتوں کا ہجوم تھا
اسے دست ِ موج ِ فراق نے
تہ ِ خاک کب سے ملا دیا ؟
کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا!
ابی کیا کہیں ۔۔۔ ابھی کیا سنیں؟
یونہی خواہشوں کے فشار میں
کبھی بے سبب ۔۔۔ کبھی بے خلل
کہاں، کون کس سے بچھڑ گیا ؟
کسے ، کس نے کیسے بھلا دیا ؟
کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 20 June 2012

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا


مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا

داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بے تاب
کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا

جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا
جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کے نکلا

دل کی آبادی کی اس حد ھے خرابی کہ نہ پوچھ
جانا جاتا ھے کہ اس راہ سے لشکر نکلا

اشک تر قطرہ خوں لخت جگر پارہ دل
ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہتر نکلا

ہم نے جانا تھا لکھے گا کوئی حرف اے میر
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد (مہدی حسن)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

مہدی حسن دل میں اب یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں


مکمل تحریر اور تبصرے >>

غلام علی کچھ یاد گار شہر ستمگر ہی لے چلیں


مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 18 June 2012

لمس تسنہ لبی سے گزری ہے

لمسِ تشنہ لبی سے گزری ہے
رات کس جاں کنی سے گزری ہے

اس مرصع نگار خانے میں
آنکھ بے منظری سے گزری ہے

ایک سایہ سا پھڑپھڑاتا ہے
کوئی شے روشنی سے گزری ہے

لُوٹنے والے ساتھ ساتھ رہے
زندگی سادگی سے گزری ہے

کچھ دکھائی نہیں دیا ، شاید
عمر اندھی گلی سے گزری ہے

شام آتی تھی دن گزرنے پر
کیا ہوا کیوں ابھی سے گزری ہے

کتنی ہنگامہ خیزیاں لے کر
اک صدا خامشی سے گزری ہے

آنکھ بینائی کے تعاقب میں
کیسی لا حاصلی سے گزری ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 17 June 2012

آج تو بے سبب اداس ہے جی

آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں

جانے کیا چیز کھو گئی  میری

وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر

اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی

چھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے

پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی

ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیاہے

چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی

آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا

میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی

ایک دم اُس کے ہونٹ چُوم لیئے

یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

ایک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا

جانے کیا بات درمیاں آئی

تو جو اتنا اداس ہے ناصر

تجھے کیا ہوگیا بتا تو سہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

کہاں آ کے رکنے تھے راستے! کہاں‌موڑ تھا! اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ تیرے نصیب کی بارشیں‌کسی اور چھت پہ برس گیںٔ
دلِ بے خبر میری بات سن، اسے بھول جا، اسے بھول جا

میں‌ تو گم تھا تیرے دھیان میں، تری آس میں‌ تیرے گمان میں
صبا کہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم، تیرے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا، تو بھی مسکرا اسے بھول جا

کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درج تھا ترے بخت میں، سو وہ ہو گیا، اسے بھول جا


نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کِس لئے، ترا جاگنا اسے بھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا، اسے دیکھ اس پہ یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل، سرِ آئینہ اسے بھول جا

جو بِساط جاں ہی الٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا اسے بھول جا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا



اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا
تجھ پہ حادثۂ شوق جو گزرا ہوتا
تو نے ہر چند زباں پر تو بٹھائے پہرے
بات جب تھی کہ مری سوچ کو بدلا ہوتا
رکھ لیا غم بھی ترا بار امانت کی طرح
کون اس شہر کے بازار میں رسوا ہوتا
جب بھی برسا ہے ترے شہر کی جانب برسا
کوئی بادل تو سر دشت بھی برسا ہوتا
آئینہ خانے میں اک عمر رہے محو خیال
اپنے اندر سے نکل کر کبھی دیکھا ہوتا
میری کشتی کو بھلا موج ڈبو سکتی تھی
میں اگر خود نہ شریک کف دریا ہوتا
تجھ پہ کھل جاتی مری روح کی تنہائی بھی
میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 16 June 2012

اک تازہ حکایت ہے


اک تازہ حکایت ہے
سُن لو تو عنایت ہے
اِک شخص کودیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اِک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اِک شخص کو سمجھا تھا
پھولوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا
کیا کریں اُس کی باتیں
دِن اُس کے لیئے پیدا
اور اُس کی ہی تھیں راتیں
کم ملنا کسی سے تھا
ہم سے تھیں ملاقاتیں
رنگ اُس کا شہابی تھا
زُلفوں میں تھیں مہکاریں
آنکھیں تھیں کے جادو تھا
پلکیں تھیں کے تلواریں
دُشمن بھی اگر دیکھیں
سو جان سے دل ہاریں
کچھ تم سے وہ مِلتا تھا
باتوں میں شباہت میں
ہاں تم ہی سا لگتا تھا
شوخی میں شرارت میں
لگتا بھی تمہی سا تھا
دستورِ محبت میں
وہ شخص ہمیں اِک دِن
اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا
پھولوں کی طرح ٹُوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ
ہم نے تو بہت ڈھونڈا
تم کس لیئے چونکے ہو
کب ذکر تُمہارا ہے؟؟
کب تم سے تقاضا ہے
کب تم سے شکایت ہے
اِک تازہ حکایت ہے
سُن لو تو عنایت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 13 June 2012

مہدی حسن کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا


مکمل تحریر اور تبصرے >>

کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
توڑ کر دیکھ لیا آئینہ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا
جب کبھی تجھ کو پکارا میری تنہائی نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا نکلا
نظر آیا تھا سر بام مظفر کوئی
پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وہ جو محو تھے سر آئینہ پس آئینہ بھی تو دیکھتے

وہ جو محو تھے سر آئینہ پس آئینہ بھی تو دیکھتے

کبھی روشنی میں وہ ، تیرگی کو چھپا ہوا بھی دیکھتے

سر آب جو رہا تشنہ لب،تو یہ ضبط غم کی ہے انتہا

میرے حال پہ تھے جو نقطہ چیں،میرا حؤصلہ بھی تو دیکھتے

وہ جو اتر گئے تھے پار خود، مجھے بیچ بحر میں چھوڑ کر


تھا ان میں جو اتناحوصلہ،مجھے ڈوبتا بھی تو دیکھتے

جنھیں مجھ سے ہے یہ گلہ،کہ میں رہا بے نیازِ خلوص و ربط
میرے گرد رسم و رواج کا،کبھی دائرہ بھی تو دیکھتے
وہ میری ہنسی سے ہیں خؤش،گماں کہ نشاط زیست ہے مدعا
میرے اشک ِ غم کا رکا ہوا ،کبھی قافلہ بھی تو دیکھتے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 10 June 2012

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں


اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر تیرے بعد حوصلہ ہے کے جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ میرے بدن میں اُتَر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھ کو پی رہا ہوں

تیری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا
مجھے تو لگتا ہے میں تیرا دوست بھی رہا ہوں

کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر
کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کے جی رہا ہوں

کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی ؟
کے میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

نا پوچھ مجھ سے کے شہر والوں کا حال کیا تھا
کے میں تو خود اپنے گھر میں دو گھڑی رہا ہوں

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اسکی آنکھ میں تھا
وہ آشْنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں

بھلا دے مجھ کو کے بیوفائی بجا ہے لیکن
گنوا نا مجھ کو کے میں تیری زندگی رہا ہوں

وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسن
یہ ناز کم ہے کے میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کّو بہ کّو پھیل گئی (مہدی حسن)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ


تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں

خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ

دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ

کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں

جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ

گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر

خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ

بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو!

کرہءِ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر

برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کچھ یادگار شہر ستمگر ہی لے چلیں

کچھ یادگارشہر ستمگر ہی لے چلیں
آۓ ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

رنج سفر کی کوئ نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچہ دلبر ہی لے چلیں

یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دلگرفتگی
گھبرا گۓ ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہر بے چراغ میں جاۓ گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>